اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سوڈان کے شمالی کردفان میں اسٹریٹجک علاقے حمرۃ الوز پر فوج کے کنٹرول کے اعلان کے بعد جنگ میں رسد اور سپلائی لائنز پر قبضے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ فوجی ماہرین نے اس پیش رفت کو جنگ میں اہم موڑ قرار دیا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں نے اسے محض ’’فرضی فتح‘‘ اور دیگر محاذوں کی صورتحال چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اسٹریٹجک امور کے محقق معتصم عبدالقادر الحسن کے مطابق حمرۃ الوز شمالی ریاست، کردفان اور دارفور کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث اہمیت رکھتا ہے اور اس پر کنٹرول سے لیبیا کی سرحد کے راستے ریپڈ سپورٹ فورسز کو ملنے والی رسد کی اہم لائن متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش قدمی سودری اور النہود سمیت مزید علاقوں پر دوبارہ قبضے اور پورے کردفان میں کنٹرول مستحکم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار مصطفیٰ محمد ابراہیم نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے حمرۃ الوز کو فوجی اعتبار سے معمولی اہمیت کا حامل علاقہ قرار دیا۔ ان کے بقول اس کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد نیل ازرق کے محاذ پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی پیش قدمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی دباؤ سے توجہ ہٹانا ہے۔
ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز اب بھی حمرۃ الشیخ، ام بادر اور سودری جیسے اہم محاذوں پر کنٹرول رکھتی ہیں۔
دوسری جانب افریقی امور کے محقق حسن کانانگی نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باہمی الزامات کے باعث کسی بھی فریق کے لیے مکمل فوجی فتح حاصل کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق سوڈان کے بحران کا مستقل حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے غیرملکی حمایت روکنے اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے احتساب کے ذریعے مذاکرات کے لیے سخت ماحول پیدا کرنے پر زور دیا، جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے شہریوں کو لاحق بڑھتے خطرات اور سنگین انسانی بحران پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ